ہفتہ 25 جولائی 2026 - 11:04
دنیا امریکہ کی خودساختہ طاقت اور اس کی پالیسیوں کو اچھی طرح جان چکی: آغا سید باقر الحسینی

حوزہ/آغا سید باقر الحسینی نے مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمِ اسلام کے صرف دو بڑے اسلامی ممالک بھی حقیقی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو بڑے سے بڑا دشمن بھی پسپا ہونے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائبِ امامِ جمعہ والجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان حجت الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے نمازِ جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا امریکہ کی طاقت اور اس کی پالیسیوں کو اچھی طرح پہچان چکی ہے۔ اگر عالمِ اسلام کے صرف دو بڑے اسلامی ممالک بھی حقیقی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو بڑے سے بڑا دشمن بھی پسپا ہونے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان حکمران ابھی تک اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے؛ معلوم نہیں امتِ مسلمہ کب بیدار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور ایران باہمی اتحاد و تعاون کو مزید مضبوط کریں تو دشمنانِ اسلام کبھی بھی ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان کے تقریباً اسی فیصد مسلمان عوام اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر سطح پر ایران کی حمایت اور تعاون کی خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان چونکہ کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا اسلامی ملک ہے، اس لیے ہماری دعا اور توقع ہے کہ حکومتِ پاکستان دانشمندی اور دوراندیشی سے فیصلے کرتے ہوئے اسلامی اخوت کے تقاضوں کو پورا کرے اور برادر اسلامی ملک کی مناسب حمایت کرے۔

حجت الاسلام سید باقر الحسینی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف بمباری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کرنے والے بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ افسوس کہ بعض حلقے مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے اسی پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ اصل جارحیت اور ظلم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ اس کی نہ سعودی عرب، نہ قطر، نہ کویت اور نہ ہی دیگر ہمسایہ ممالک سے کوئی دشمنی ہے۔ ایران صرف ان فوجی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اگر ایران کا ان ممالک سے براہِ راست تصادم مقصود ہوتا تو وہ وسیع پیمانے پر ان پر حملے کرتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس امریکہ نے کئی مواقع پر شہری آبادیوں اور عوامی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اپنے حملوں کو مخصوص فوجی اہداف تک محدود رکھا۔

امام جمعہ سکردو نے کہا کہ آج دنیا میں ظلم و بربریت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ حق اور باطل، ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری انصاف، حق گوئی اور انسانیت کے اصولوں کو مقدم رکھتے ہوئے مظلوم اقوام کی آواز بنے۔

آغا سید باقر الحسینی نے ملک کے اندر قانون کی مساوی عملداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی شہر اور ایک ہی علاقے میں دوہرے قوانین کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر عوام کے لیے زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی ہے تو یہی قانون سرکاری اداروں اور بااثر افراد پر بھی یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا تو ہی انصاف قائم ہوگا، بصورتِ دیگر عوام میں بے چینی اور احتجاج جنم لے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha